مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کشکول ہاتھ میں لیے تصویر پوسٹ کرنے پر مقامی سیاستدان کو گرفتار کر لیا گیا۔
تامل ناڈو میں وزیر اعظم کے دورے سے ایک دن قبل مقامی تامل جماعت کے رہنما ستھیا راج بالو نے مودی کی تصویر میں ایڈیٹنگ کر کے انہیں کشکول ہاتھ میں لیے دکھا کر بھیک مانگنے سے تعبیر کیا تھا اور اس تصویر کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا جس پر انہیں ہفتے کو گرفتار کر لیا گیا۔
حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے باقاعدہ شکایت کے بعد انہیں گرفتار کر کے امن عامہ کو خراب کرنے اور سماج میں طبقاتی فرق پیدا کرنے کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔
اس وقت ستھیاراج بالو پولیس کی حراست میں ہیں جہاں ان سے تفتیش جاری ہے لیکن ناقدین نے حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے کا قتل قرار دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ